کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں اس سے 200 سے زیادہ ممالک میں 25 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہو چکے ہیں وہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 69 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔
دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے جن چیزوں کو اس کوشش میں سب سے اہم قرار دیا ہے ان میں سے ایک اس بیماری کی تشخیص کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کی ٹیسٹنگ کا عمل ہے
دنیا میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کا عمل مختلف ممالک میں مختلف رفتار سے جاری ہے۔ امریکہ میں جہاں ابتدا میں اس عمل میں سست رفتاری دکھائی دی وہ اب دنیا میں سب سے متاثرہ ملک بن چکا ہے اور اب وہاں ٹیسٹنگ کے عمل میں تیزی آئی ہے۔
وہیں جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ممالک نے وبا کے آغاز سے ہی جارحانہ انداز میں ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا جس کا نتیجہ وہاں کم اموات کی صورت میں نکلا ہے۔
پاکستان کی بات کی جائے تو وہاں بھی ابتدا میں بہت کم ٹیسٹ کیے گئے اور 15 اپریل تک اگر دیکھا جائے تو ملکی سطح پر دس لاکھ افراد میں ٹیسٹوں کی شرح 360 کے لگ بھگ تھی                                                           سوال یہ ہے کہ دنیا میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کون کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں اور مختلف ممالک میں یہ 

کتنے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے                                            کورونا وائرس کے ٹیسٹ کتنی اقسام کے ہیں            

دنیا کے اکثر ہسپتالوں میں جہاں کورونا کے مرض کی تشخیص کا عمل جاری ہے   وہاں دو قسم کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
ان میں سے ایک ہے سواب ٹیسٹ جبکہ دوسرا اینٹی باڈیز ٹیسٹ ہے۔
سواب ٹیسٹ مشتبہ مریض کی ناک یا گلے سے نمونہ لے کر کیا جاتا ہے جس میں وائرس کے جینیاتی مواد کی نشاندہی کے لیے اس کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا جاتا ہے۔
دوسری قسم کا ٹیسٹ اینٹی باڈی ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا پہلے ہی کسی شخص کو وائرس ہو چکا ہے یا نہیں۔
اس قسم کے ٹیسٹ میں ایک آلے پر خون کے قطرے کا استعمال کرتے ہوئے قوتِ مدافعت دیکھی جاتی ہے۔ یہ بالکل حمل کے ٹیسٹ جیسا ہے۔
برطانوی حکومت نے ساڑھے تین لاکھ اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹ خریدی ہیں لیکن ابھی تک ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں مل سکا جسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے قابل اعتماد سمجھا جا سکے۔
کتنے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے 

Comments