- Get link
- X
- Other Apps
- Get link
- X
- Other Apps
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ازخود نوٹس کیس کی ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ محکمہ زکوۃ نے کوئی معلومات نہیں دیں، جواب میں صرف قانون بتایا گیا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل خالد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت زکوۃ فنڈ صوبوں کو دیتی ہے۔ صوبائی حکومتیں زکوۃ مستحقین تک نہیں پہنچاتیں، اس فنڈ کا بڑا حصہ تو انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کام میں شفافیت نہیں، صرف یہ بتایا گیا کہ امداد دی گئی لیکن تفصیل نہیں دی گئی۔ کسی صوبے اور محکمے نے شفافیت پر مبنی رپورٹ نہیں دی، عوام اور بیرون ملک سے لیا گیا پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہو رہا ہے۔ کھربوں روپے خرچ ہو چکے اور مریض صرف 5 ہزار ہیں، زکوۃٰکے پیسے سے دفتری امور نہیں چلائے جا سکتے، زکوةٰ کا پیسہ بیرون ملک دوروں کےلئے نہیں ہوتا ، افسران کی تنخواہیں بھی زکوةٰفنڈ سے دی جاتی ہیں، زکوةٰ فنڈ کا سارا پیسہ ایسے ہی خرچ کرنا ہے تو کیا فائدہ۔کیا زکوة ٰفنڈ سے تنخواہ دینا شرعی طور پر جائز ہے؟کیا زکوة کے پیسے سے انتظامی اخراجات کرنا جائز ہے؟کیا محکمہ زکوة کا بنایاگیا قانون شریعت سے متصادم نہیں
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مزارات کا پیسہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کے لیے ہوتا ہے، مزارات کی حالت دیکھ لیں سب گرنے والے ہیں ، سمجھ نہیں آتا اوقاف اور بیت المال کا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے، بیت المال والے کسی کو فنڈ نہیں دیتے ، مزارات کے پیسے سے افسران کیسے تنخواہ لے رہے ہیں ، ڈی جی بیت المال بھی زکوةٰ فنڈ سے تنخواہ لے رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قرنطینہ مراکز میں مقیم افراد سے پیسے لیے جارہے ہیں، قرنطینہ کے لیے ہوٹلز کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا گیا ، تمام ہوٹلز کو قرنطینہ بنانے کاموقع کیوں نہیں دیا گیا ، جو پیسے نہیں دے سکتے انہیں مفت قرنطینہ میں منتقل کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری صحت تنویر قریشی نے عدالت کو بتایا کہ حاجی کیمپ اور پاک چائینہ سینٹرز میں مفت قرنطینہ سہولت ہے ، حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز نہیں دیکھا، آج ہی دورہ کر کے سہولیات کی فراہمی یقینی بناو¿ں گا۔
- Get link
- X
- Other Apps

Comments
Post a Comment